محکمہ زراعت پیرمحل کے تحت فیلڈ اسسٹنٹ آفس چک نمبر670/11گ ب میں سموگ اور چارہ جات کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد کیا

پیرمحل (نمائندہ سچ کا ساتھ ) محکمہ زراعت پیرمحل کے تحت فیلڈ اسسٹنٹ آفس چک نمبر670/11گ ب میں سموگ اور چارہ جات کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد کیا زمینداروں کسانوں کو دھان کی پرالی اور مڈھوں کو آگ لگانے کے حوالے پیدا ہونے والی سموگ اور اس سے پیدا ہونے والے نقصان اور سموگ کی روک تھام کے بارے آگاہی دی گئی پروگرام میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع محمد اسلم نے خصوصی شرکت کی اور سموگ کی روک تھام کے حوالے سے کسانوں کو گورنمنٹ کی پالیسی بارے بتایا

محمد طارق زراعت آفیسر توسیع پیرمحل نے زمینداروں سے خطاب میں کہا کہ دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔دھان کی کٹائی کے بعد باقیات مثلا پرالی اور مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں متعلقہ کاشتکار کے خلاف دفعہ – 144 کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ا کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔دھان کی باقیات سے اٹھنے دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔

دھان کی باقیات کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار فصل کی برداشت کے بعدباقیات کو رائس سٹرا چاپر/ روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو کی مدد سے زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں۔اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے واقعات کو روکنے کیلئے محکمہ زراعت پنجاب ہر ممکن اقدام کررہا ہے کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگی کے ساتھ فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔

امسال روزانہ کی بنیاد پر دھان کی فصل کی باقیات کو جلائے جانے والے واقعات کو مانیٹر کریں گے انہوں نے کاشتکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ زراعت پنجاب سے اس سلسلے میں مکمل تعاون کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں لہذا دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کیا جائے تاکہ ہمارا ماحول بہتر ہو سکے اور ہم فضائی آلودگی سے بچ سکیںدھان کی باقیا ت کو آگ نہ لگائیں اور اردگرد کے لوگوں کو بھی آگ لگانے سے منع کریں خلاف ورزی کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج اور 50ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیاجاسکتاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں