کراچی

کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے لاکھو روپیوں کے سامان چوری کرنے کا معمول بن گیا

کراچی ملیر رپورٹ (حفیظ رحمٰن) ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے لاکھو روپیوں کے سامان چوری کرنے کا معمول بن گیا کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی مختلف فیکٹریوں سے قیمتی سامان چوری ہونے میں فیکٹری انتظامیہ ، زون انتظامیہ اور کسٹم انتظامیہ براہ راست ملوث کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون لنڈہ اور کچرہ اٹھانے کی آڑ میں ٹرک اور ڈمپر اندر آتے ہیں جن میں نیچے فیکٹریوں سے چوری شدہ قیمتی مال بھرا جاتا ہے اور اوپر کچرا بھرا جاتا ہے جسی مختلف گوداموں میں خالی کرکے قیمتی سامان کو مارکیٹ میں بیچ دیا جاتا ہے کئی مال بردار گاڑياں بغیر کسی گیٹ پاس ، چالان کے چوری کا مال لیکر با آسانی کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ کے سخت سیکیورٹی سے گزر جاتی ہیں
دوسری جانب کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی بھینس کالونی والی طرف سے سے دیوار کے اوپر سے رات کے پہر میں قیمتی سامان چوری کیا جاتا ہے تفصیلات کے مطابق چور مافیا گاڑی لیکر کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے پیچھے والی سائیڈ پہنچتے ہیں اندر موجود چوروں کی دوسری ٹیم مال کو دیوار کی دوسری طرف پھینکتے ہے

جہاں سے مال کو گاڑی میں لوڈ کرکے مختلف طریقوں سے فروخت کیا جاتا ہے تیسری جانب کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے ونٹیج (Vintage) نامی قیمتی شرٹوں کے چوری ہونے کا کاروبار عروج پر ہے ذرائع کے مطابق ونٹیج (Vintage) کی قیمتی شرٹیں جنکی مالیت دس ہزار سے پچاس ہزار تک کی ہے مختلف فیکٹریوں سے چوری کرکے باہر لائی جاتی ہیں جہاں مختلف بروکر ان شرٹوں کو خریدتے ہیں جنکا بڑا نیٹ ورک لیاری میں ہے جہاں شہر بھر کے بروکر شرٹیں پہنچاتے ہیں اور پھر ان شرٹوں کو غیر قانونی طریقوں سے سمندر کے راستے تھائیلینڈ پہنچایا جاتا ہے جبکے ان شرٹوں سمیت لنڈہ فیکٹریوں کے مال سے نکلنے والے مختلف ملکوں کے نوٹوں اور زیورات کی خرید و فروخت کے لیۓ لیبر اسکوائر لانڈھی کے 52A اسٹاپ پر مکمل مارکیٹ بن چکی ہے جہاں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کی 50 کے قریب دکانیں موجود ہیں جہاں مختلف ملکوں کی کرنسی کو با آسانی پاکستانی روپیوں میں تبدیل کیا جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں