جاپان کی 90 سالہ خاتون دنیا کی معمر ترین فٹنس ٹرینر

جاپان کی 90 سالہ خاتون دنیا کی معمر ترین فٹنس ٹرینر

آج جبکہ نوجوانوں کی اکثریت جسمانی مشقت اور معمولی بھاگ دوڑ سے بھی ہانپنے لگتی ہے، جاپان میں پڑدادی جتنی عمر کی 90 سالہ خاتون ایسی بھی ہیں جو دوسروں کو چست اور تندرست رہنے کی باقاعدہ تربیت دیتی ہیں تاکیشیما میکا، المعروف ’تاکیمیکا‘ نامی ان خاتون نے 15 جنوری 2021 کے روز اپنی 90 ویں سالگرہ منائی ہے جبکہ 87 سال کی عمر میں انہوں نے فٹنس ٹرینر کا کام شروع کیا تھا۔

تاکیمیکا کی کہانی خاص ان لوگوں کےلیے مشعلِ راہ ہے جو عمر کے کسی بھی حصے میں خود پر بڑھاپا طاری کیے بیٹھے ہیں جاپانی ویب سائٹ ’نپن ڈاٹ کام‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں تاکیمیکا نے بتایا کہ 65 سال کی عمر تک وہ عام گھریلو خاتون ہی تھیں۔ بڑھاپے کے ساتھ ساتھ ان کا وزن بھی خاصا بڑھ چکا تھا اور وہ موٹی بھی ہوچکی تھیں پھر ایک روز اُن کے شوہر نے ان کے وزن اور موٹاپے کا مذاق اُڑایا؛ اور یہ بات ان کے دل کو ایسی لگی کہ انہوں نے اپنا وزن کم کرنے کی ٹھان لی

پہلے تو انہوں نے باقاعدگی سے جم جانا شروع کیا لیکن اس عمر میں وزن کم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ ڈٹی رہیں اور پانچ سال میں انہوں نے اپنا وزن 15 کلوگرام کم کرلیا۔ یہ ان کا پہلا ہدف تھا جسے حاصل کرکے وہ بہت خوش ہوئیں جم جانے کی وجہ سے تاکیمیکا کو طرح طرح کی ورزش اور جسمانی مشقت میں مزا آنے لگا اور انہوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ البتہ اب انہوں نے وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جسمانی خدوخال پر بھی توجہ دینا شروع کردی پہلے میں نے اپنی کمر پتلی کرنے پر کام کیا، پھر میں نے سوچا کہ مجھے اپنے کندھے چوڑے کرنے کی ورزشیں کرنی چاہئیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ میں دوسروں کو ایئروبکس کی ورزشیں کروانے لگی،‘ تاکیمیکا نے ’نپن ‘ کو بتایا

وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ تاکیمیکا نے 79 سال کی عمر میں ’پاور ایجنگ جم‘ جوائن کرلیا جو بطورِ خاص عمر رسیدہ افراد کےلیے ہی بنایا گیا تھا یہاں سے مزید آٹھ سال تک تربیت حاصل کرکے تاکیمیکا ایک مکمل ایتھلیٹ بن گئیں اور ان کے مثبت رویّے سے جم میں آنے والے دوسرے لوگوں کی بھی ہمت بڑھنے لگی 2018 میں، جب تاکیمیکا کی عمر 87 سال ہوئی تو پاور ایجنگ جم کے مالک اور چیف انسٹرکٹر نے انہیں جم انسٹرکٹر بننے کی پیشکش کردی، جو انہوں نے قبول کرلی

ورزش اور چاق و چوبند رہنے سے متعلق اپنے معمول کے بارے میں تاکیمیکا نے بتایا’پہلے یہ میرے لیے چیلنج تھا، پھر یہ میرا معمول بن گیا۔ اس کے بعد یہ میرا شوق بنا اور آج یہ میری فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔ ویب سائٹ ’نپن ‘ کے مطابق، تاکیمیکا روزانہ رات کو 11 بجے سو جاتی ہیں اور صرف چار گھنٹے بعد، تین بجے جاگ جاتی ہیں پھر وہ 4 کلومیٹر چہل قدمی، 3 کلومیٹر جاگنگ اور ایک کلومیٹر ’اُلٹی چہل قدمی‘ کرتی ہیں۔ اتنی دیر میں ناشتے کا وقت ہوجاتا ہے اور وہ متوازن، صحت بخش ناشتہ کرتی ہیں۔ اس کے بعد وہ معمول کے گھریلو کام کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرلیتی ہیں اس دوران کبھی کبھی وہ ٹی وی بھی دیکھتی ہیں لیکن کوشش کرتی ہیں کہ پیٹ اندر اور کمر سیدھی رہے

دوپہر کا کھانا وہ ہلکا پھلکا ہی رکھتی ہیں اور کچھ دیر ٹھہر کر بھرپور ورزش کرتی ہیں۔ اسی طرح وہ رات کا کھانا بھی متوازن اور صحت بخش رکھتی ہیں رات کے کھانے کے بعد وہ فٹنس کی ورزشیں کرتی ہیں جو ان کے ٹرینر نے انہیں بتائی ہوتی ہیں؛ اور سونے سے پہلے کچھ دیر کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے انگریزی زبان میں اپنی مہارت بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھتی ہیں تاکیمیکا کی یہ کہانی اب تک جاپان میں ہزاروں عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرچکی ہے جن میں سے تقریباً 80 ہزار لوگوں کی عمر سو سال سے زیادہ ہے اب میں چاہتی ہوں کہ جب میری عمر 100 سال ہو تو میں اسی طرح چاق و چوبند اور صحت مند رہتے ہوئے فٹنس ٹرینر کے طور پر کام جاری رکھوں،‘‘ تاکیمیکا نے کہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں