پیرمحل

پیرمحلپیرمحل

پیرمحل ( نامہ نگارنمائندہ سچ کا ساتھ ) حکومت کا عید الفطر پر آٹھ روزہ لا ک ڈان عوام نے وفاقی وصوبائی حکومت پر سوالات اٹھادیے تفصیل کے مطابق وفاقی وصوبائی حکومت کی طرف سے عیدالفطر پر آٹھ رو ز لاک ڈان کا اعلان کررکھا ہے منور افتخار جنرل سیکرٹری خدمت خلق نے کہا حکومت سے پوچھا جانا چاہیے کہ آٹھ روزہ لاک ڈان کے لیے تیاری کیا ہے؟

جو دیہاڑی دار مزدور روزانہ کی بنیاد پر راشن خریدتے ہیں انکے لیے کیا پلان ہے؟انکے بچوں کے لیے دودھ اور ادویات فراہم کرنے کے کیا انتظامات ہیں؟مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے اگر کسی گھر میں کھانا نہ پک سکا تو ایمرجنسی میں کس نمبر پر کال کریں ؟کپڑوں کی دکانیں سختی کے ساتھ بند کروا دی جائیں گی۔ لوگ میتوں کو دفنانے کے لیے کفن کہاں سے خریدیں گے

یا حکومت وقت کفن گھر پر مہیا کرے گی؟ حمزہ وحید کا کہنا ہے کہ کورونا کے ساتھ ساتھ ہزاروں دیگر امراض میں مبتلا لاکھوں مریضوں کے علاج معالجہ کا کیا بنے کا ؟ ڈاکٹروں تک رسائی کے کیا انتظامات ہونگے؟آٹھ روز تک ٹرانسپورٹ کی بندش سے خوراک ، ادیات اور دیگر ضروریات زندگی کی قلت پیدا ہونے پر حکومت کا پلان کیا ہے؟اگر لاک ڈان سے فائدے کی بجائے غربت میں پسی ہوئی قوم کا بیڑا ہی غرق ہوگیا توذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

عوام کا کہنا ہے حکومت تھوڑا نہیں پورا سوچے کیونکہ بغیر پلاننگ لاک ڈان سے عوام کو فائدہ کی بجائے ذخیرہ اندوزوں اور بھوک افلاس کے حوالے نہ کیا جائے بلکہ مکمل ایس اوپیز کے تحت عوام کو کاروبار اور علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں