سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی

کراچی پریس کلب’ ایکشن کمیٹی کا قیام

کراچی پریس کلب کے ممبر اور سینئر جرنلسٹ کالمکار جاوید صدیقی نے پریس کلب کے مالیاتی اور دیگر امور پر احتسابی عمل کو خوش آئند قرار دیتے ھوئے کراچی پریس کلب کی اہمیت و مرتبے کیلئے ناگزیر قرار دیا ھے۔ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ شفافیت عدل و انصاف کیساتھ احتساب سے ہی کراچی پریس کلب بہتر گامزن رہیگا۔ ان کا کہنا ھے کہ وہ ہمیشہ کی طرح حق و سچ کیساتھ کھڑےہیں اور کھڑے رہیں گے۔۔۔۔ معزز قارئین!! سینئر جرنلسٹ راؤ محمد جمیل نے بتایا ھے

کہ جرنلسٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق کراچی پریس کلب کے بعض عہدداران نے کراچی پریس کلب کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا اور کراچی پریس کلب کے حقیقی تقدس، وقار کو بحال کرانے کیلئے جرنلسٹ ایکشن کمیٹی کے قیام عمل میں لایا گیا ھے۔ ایکشن کمیٹی کے ذریعے کراچی پریس کلب کو ملنے والی خصوصی حکومتی گرانٹ میں کم و بیش ایک کروڑ روپے کی خرد برد کو منظر عام پر لائی جائیگی جبکہ کراچی پریس کلب پر سازشی قبضے، غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں اورمیرٹ کیخلاف ممبر شب کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا اور پریس کلب کو جماعتیوں کے قبضے، غیر قانونی

سرگرمیوں سے آزاد کرانے اور حقدار صحافیوں کو ممبر شپ دلا کر پریس کلب کے حقیقی تقدس اور وقار کو بحال کرانے کیلئے جرنلسٹ ایکشن کمیٹی بھرپور کردار ادا کریگی۔ کراچی پریس کلب کے نامور ممبران اور بعض صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کے دوران انکشاف ہوا کہ پریس کلب کے بعض عہدداران نے پریس کلب کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جبکہ جمہوریت، صحافت اور انصاف کے مینار کراچی پریس کلب کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں میرٹ اور کردار کا نشان سمجھا جانے والا کراچی پریس کلب جماعتیوں کے

ایک منظم ٹولے کی اوطاق اور مذہبی جماعت کے ہیڈکواٹر میں تبدیل ہوکر رہ گیا۔ کراچی پریس کلب کے تقدس اور اس کی اصل شناخت کی بحالی کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو جبری طور پر دبا دیا گیا۔ جماعتی ٹولے نے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مذہبی سیاسی لسانی اور دہشت گردی سمیت سنگین الزامات میں ملوث افراد کو بھی کراچی پریس کلب کا ممبر بنادیا۔ جماعتی ٹولے نے مذکورہ بدنام اورخود ساختہ صحافیوں کے گروہ کو اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کیلئے استعمال کیا۔اس دوران متاثره صحافیوں کی جانب سے جرنلسٹ ایکشن اکمیٹی کا قیام عمل لایا گیا ایکشن کمیٹی ملک بھر کے اہم پریس کلب، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف

آف آرمی اسٹاف، وزیراعظم پاکستان سیمت اعلیٰ شخصیات و دیگر اہم اداروں کے سربراہان کو ناصرف خطوط لکھ کر حقائق سے آگاه کیا جائیگا بلکہ اپنے وکلاء کی توسط سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کیجائیگی۔ موجود پریس کلب کے ممبران اور صحافی رہنماؤں اور سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے متاثرہ صحافیوں کیجانب سے جرنلسٹ ایکشن کمیٹی کے قیام کو سراہتے ہوئے کراچی پریس کلب کی عزت وقار اور آزادی کے اس سفر میں ایکشن کمیٹی کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور ہر ممکن مدد اور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ھے۔۔۔معزز قارئین!!سینئر جرنلسٹ و ممبر کراچی پریس کلب جاوید صدیقی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ سالوں میں

ھونے والی ممبر شپ میں بے پناہ بے ضابتگی دیکھی گئی جسمیں الیکٹرونک میڈیا کے شعبہ پی سی آر ‘ شعبہ ایڈیٹنگ و دیگر غیر متعلقہ شعبہ جات سے اپنے من پسندوں اور خاص طور پر جونیئر ترین ملازمین کو کراچی پریس کلب کی ممبر شپ دی گئیں گویا *مالِ غنیمت دلِ بے رحم* کے تحت بیدریخ غیر قانونی و غیر آئینی راہ بھی استعمال کی گئی جس سے مستحق صحافیوں کے حقوق تلف ھوئے۔ یہ سلسلہ کسی ایک کی جانب سے نہیں بلکہ دونوں اطراف سے رہا ھے۔

مزید یہ کہ جب صحافتی تنظیموں اور کلب میں بے ضابتگی’ عدم استحکام اور بے چینی کا رویہ قائم رکھا جائیگا تو کس طرح سے ایک صحافی اپنے منصب کو بہتر انداز میں پیش کرنے میں کردار ادا کرسکے گا۔ جاوید صدیقی کا یہ بھی کہنا ھے کہ پاکستان بھر کے صحافتی تنظیموں و کلب کو سیاست اور سیاسی جماعتوں سے قطعی محفوظ بنانا ھوگا اور تے غیر جانبداری طرز عمل کو قائم رکھنا ھوگا تاکہ تمام صحافیوں کے حقوق اور ان کے بنیادی مسائل کوپاکستان بھر میں ایک قوت ایک آواز کیساتھ مخلصانہ دیانتدارانہ عمل سے پائے تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ یقیناً ایمانداری اور سچائی میں بڑی طاقت ھے اور اسی سے عزت و وقار بھی۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:کراچی پریس کلب’ ایکشن کمیٹی کا قیام
جاوید صدیقی

اپنا تبصرہ بھیجیں