جب تک غدار ھیں ھم برباد ھیں

تاریخ اسلام سے لیکر تاریخ مسلم دنیا۔ تاریخ مسلم سپہ سالار۔ تاریخ مسلم ریاست۔ تحریک آزادی ہند اور تحریک پاکستان تک غداروں نے رکاوٹیں اور ناتلافی نقصان سے ہمیشہ رکھا اگر صرف یہاں ملک پاکستان کی بات کروں تو غداروں کی غداریاں چھپی اور منافقانہ طرز پر جاری و ساری ہیں یہی وجہ ھے کہ پاکستان دنیا کی ترقی و خوشحالی میں بہت پیچھے ہیں آج کے کالم کو میں ایسے مسلم سپہ سالار پر قلم تحریر کررہا ھوں جس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر گروہ بندی کیساتھ پہلے عوام میں انارکی پھیلائی گئی

پھر حکمران اس وقت کے سپہ سالار جو نہ صرف حب الوطن تھا بلکہ ایک سچا مخلص دیندار مسلمان ھونے کے ناطے ایک مومن اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھا لیکن یہود و ہنوز اور کفار و مشرکین نے یکجا ھوکر صف بندی کیساتھ حملہ کیا اور شدید جنگ و دجل کے بعد ہزاروں عوام کو شہید کرکے اس عظیم رہنما کو گرفتار کرکے شہید کردیا وہ عظیم عربی سپہ سالار عراق کا صدر صدام حسین تھا۔۔۔۔معزز قارئین!! آج آدھا اسرائیل تباہ ہونا چاہئے۔

اس رات دنیا نے دیکھا صدام حسین شھیدؒ کے دربار میں ایک فلسطین کی عورت نے اسرائیل کے مظالم کی داستان سناتے ہوئے گڑگڑا کے اسرائیل کو جواب دینے کیلئے التجا کی کہ *” اے صدام! آؤ ہماری عزت کو بچا لو۔۔۔”* صدام حسین عورت کی آہ و بکا سن کر روتے رہے پھر اسی رات اسرائیل پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آج آدھا اسرائیل تباہ ہونا چاہئے۔ اس رات دنیا نے دیکھا کہ ایک مظلوم عورت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے صدام حسین شھید نے اسرائیل پر ایک سو دس میزائل چھوڑ دئیے۔

جانتے ہو اس کے بعد کیا ہوا؟؟امریکی صلیبیوں نےایرانی انتہاپسند ملاؤں سے مل کر پہلے صدام حسین شہید کو پھانسی پر لٹکایا اور انعام میں عراق کی حکومت لی پھر اس دن سے لیکر آج عراق میں نہتے مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے پھر وہی امریکہ نے ایران پر پابندیوں کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔ صدام حسین شہید کے بعد عرب امریکہ کی گود میں بےغیرتی کی نچلی سطح تک گر گیا اب عرب ریاستوں اور ملکوں میں حکومتوں کے اہم مقامات پر یہودیوں کے ایجنٹ امریکہ کے توسط سے بیٹھ گئے ہیں۔ مسلم دنیا کے عرب ممالک کو نامرد اور ہیجرہ بنادیا ھے

انکی تمام ایمانی طاقتوں کو دولت و عورت کے نشے میں غرق کردیا ھے۔ اسرائیل کا دوسرا اور اصل ہدف پاکستان ھے جو وہ مختلف انداز میں وار کرتا ھے ان میں سب سے بڑا وار غداروں کے آگے ہڈی ڈال کر بڑے بڑے عزائم کی تکمیل یہ عمل امریکہ اور ورلڈ بینک باہم مشترکہ کرتے ہیں جبکہ ڈوریں اسرائیل کے ہاتھوں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی جنگ غداروں اور منافقوں کیساتھ ہرگز ہرگز نہیں جیت سکتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ حکمران کون ہیں آمر یا جمہوری انہیں تو اپنے مقاصد حاصل کرنے ہوتے ہیں جو بھی معاون بن جائے۔

سلطنت عثمانیہ ھو یا بنو عباسیہ یا پھر فاطمید کے دور اقتدار بلکہ خلفائے راشدین کی بات کی جائے تو ان وقتوں میں بھی غداروں اور منافقوں نے اسلام اور اسلامی ریاستوں کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھیں لیکن اس وقت کے حکمران خود ایماندار سچے اصولی شفاف پرہیزگار متقی مدلل مفکر حکمت و دانائی سے روشناس تھے۔ صراط امستقیم پر چلنے والے ان مسلم حکمرانوں نے بنا تفریق بنا اقربہ پروری عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو لاگو کیا شکست کیساتھ واصل جہنم کیا غداروں اور منافقوں کو۔ انکے فیصلے سخت اور اٹل تھے انکے نظریہ قرآن و سنت کے تابع تھے

اور الله رسول کی اطاعت گزاری میں ڈوبے ہوئے تھے یہی وجہ ھے کہ انہیں الله نے نصرت و فتح سے ہمکنار کیئے رکھا اور تقریباً آدھی دنیا سے زائد بیک وقت حکومت کیں اس وقت کی عوام الناس نے بھی خوب منافقوں اور غداروں کو بے نقاب کرکے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا آج ھم بھی صرف وطن عزیز پاکستان اور اسلام کیلئے تمام رشتے بھلا کر اپنے اندر کے چھپے غداروں اور منافقوں کو بے نقاب کردیں تو پاکستان دنیا کا سب سے بڑا طاقتور اور خوشحال ملک بن جائیگا جب تک غدار ہم میں ہیں ہم کبھی بھی نہ کوئی جنگ جیت سکتے ہیں اور نہ ہی خوشحال ھوسکتے ہیں کرپشن بدعنوانی قومی خذانے کی لوٹ مار بھی غداری اور منافقت دھوکے کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ غداری کے سرتاج یہی عناصر ہیں دیکھیں کب پاکستان سے ان غداروں اور منافقوں کا قلع قمع ھوتا ھے الله پاکستان کی ہمیشہ حفاظت رکھے آمین

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:جب تک غدار ھیں ھم برباد ھیں

کالمکار: جاوید صدیقی

اپنا تبصرہ بھیجیں