کابینہ میں بڑا ردوبدل۔۔۔کون کون سے وزرا کی چھٹی۔۔ کون سے نئے چہرے شامل ہونےوالے ہیں

اسلام آباد :کون کون سے وزیر گھروں کوجانے والے ہے ندیم بابر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اس بات کے امکانات ہیں کہ اور بھی کئی شخصیات کی چھٹی کی جا سکتی ہےکابینہ میں بڑا ردوبدل۔۔۔کون کون سے وزرا کی چھٹی۔۔ کون سے نئے چہرے شامل ہونےوالے ہیں؟ کپتان نے بڑا فیصلہ کرلیا۔ اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں ایک بار پھر تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔کابینہ میں تبدیلیاں آئندہ ہفتے متوقع ہیں۔وزیراعظم دوبارہ آفس سنبھالتے ہی کابینہ میں تبدیلیاں کریں گے۔وزیراعظم کی جانب سے کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا اور وزراء کو دوبارہ قلمدان سونپے جائیں گے۔کابینہ میں تبدیلیاں آئندہ ہفتے متوقع ہیں ۔شبلی فراز، فیصل واڈا اور عثمان ڈار کی کابینہ میں واپسی ہو گی جبکہ مشیروں میں بھی ردوبدل پر غور کیا جا رہا ہے۔ آئندہ چند روز میں کابینہ میں نئے چہرے شامل کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی ندیم بابر کو مستعفی اور سیکرٹری پٹرولیم کوعہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی تھی،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم نے پٹرولیم بحران کی شفاف تحقیقات کیلئے ان کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی ہے، پٹرولیم بحران کی رپورٹ پرایف آئی اے90 دن کے اندر فرانزک آڈٹ رپورٹ دےگی، دیکھنا ہے کیا پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی گئی اورکس نے کی؟ انہوں نے وفاقی وزراء شفقت محمود اور شیریں مزاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جون2020 میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران دیکھا گیا تھا۔جب کہ سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا کہ ندیم بابر کی رخصت شروعات، مزید وزراء کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار کے مطابق مقتدر حلقوں نے بھی کہہ دیا کہ کئی وزراء کی کارکردگی بہت خراب ہے، یہ بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ وزیراعظم کو بھی ان وزراء کی کرپشن کی رپورٹس مل چکی ہیں۔ جو وزراء نشانے پر ہیں ان کے حوالے سے یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ اگر انہیں نہ ہٹایا گیا تو پھر اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن خود انہیں ہٹانے کا نوٹیفیکیشین جاری کر دے گی۔جبکہ اس حوالے سے سینئر صحافی عمران یعقوب خان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے اگلے الیکشن میں جا سکیں، اسی لیے انہوں نے فیصلہ کر لیا وہ جس حد تک جا سکتے ہیں ضرور جائیں گے، اب بیوروکریسی اور کابینہ دونوں کا احتساب ہوگا۔ میں جا سکیں، اسی لیے انہوں نے فیصلہ کر لیا وہ جس حد تک جا سکتے ہیں ضرور جائیں گے، اب بیوروکریسی اور کابینہ دونوں کا احتساب ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں