ﺁﺧﺮﯼ ﺟﻨﮓ ﮨﮯ ﻣﺮﯼ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ

میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے

قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غم زندگی کو بھول گیا

لمحہ لمحہ پڑھا کرے انسان
نوحہ کُلُ مَن عَلَیھَا فَان

ﺁﺧﺮﯼ ﺟﻨﮓ ﮨﮯ ﻣﺮﯼ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ

ﭼﺸﻢِ ﺑِﯿﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺷِﻔﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺍُﺳﮑﮯﺩﯾﮑﮭﮯ ﮬُﻮﺋﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ

تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں

دنیا ، یعنی دنیا ، یعنی میری دل دنیا
درھم اور برھم ھے اب تم یاد نہیں آتے

آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروت تو پلاتے جائیے

عجب الزام ہوں زمانے کا
کہ یہاں سب کے سر گیا ہوں میں

ہوا ہے کار طلب سلسلہ امیدوں کا
ہمیں کبھی تو ملے گا صلہ امیدوں کا

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہئے__
شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہئے__

گمان
وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی
ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
بہتر یہی ہے آپ مجھے بھول جائیے

کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
کہ جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

شوق ھے اس دل درندا کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا

‏تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کو کب تک دکھ پہنچاؤں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں