کیا ’کششِ ثقل‘ لیونارڈو ڈاونچی نے دریافت کی؟

کیا ’کششِ ثقل‘ لیونارڈو ڈاونچی نے دریافت کی؟

کیلیفورنیا| مشہور اطالوی ہمہ دان لیونارڈو ڈا ونچی کے 16 ویں صدی کے ابتداء میں بنائے گئے خاکوں کے مشاہدے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ انہوں نے برطانوی ریاضی دان آئزک نیوٹن سے کافی عرصہ قبل کشش ثقل کو سمجھ لیا تھا۔

کیلیفورنیا اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے ڈا ونچی کی نوٹ بکس کا دوبارہ جائزہ لیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈا ونچی نے ایسے تجربے کیے تھے جس میں کششِ ثقل کو بطور اسراع (ایکسلریشن) کی ایک قسم کےپیش کیا گیا تھا جبکہ ان کا گریویٹیشنل کونسٹینٹ 97 فی صد درست تھا۔

محققین کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ڈاونچی کے تجربات کو کششِ ثقل کے بیان سے محدود وسائل نے روک کر رکھا۔ان کے پاس وقت کی پیمائش کا آلہ موجود نہیں تھا جوکسی شے کے گرتے وقت استعمال کیا جاتا۔ لیونارڈو ڈا ونچی (1452-1519) ان نظریات کی سمجھ میں اپنےوقت میں بہت آگے تھے، لہٰذا یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں اگر انہیں کششِ ثقل کا خیال آیا ہو۔

تاہم، 1604 میں گیلیلیو نے بتایا کہ گرتی ہوئی چیز کے فاصلہ طے کرنے کا تناسب اس عمل میں صرف ہونے والے وقت کے مربع کے برابر ہوتا ہے۔ بعد ازاں 17 ویں صدی کے آخر میں نیوٹن نے یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کے متعلق بتایا جس میں یہ واضح کیا کہ اشیاء کس طرح ایک دوسرے کی جانب کھنچتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں