ڈرون سے پھینکے گئے بیجوں کو مٹی میں دبانے والا نظام تیار

ڈرون سے پھینکے گئے بیجوں کو مٹی میں دبانے والا نظام تیار

پٹس برگ| چچ اسی طرح ہوا ان بیجوں کو اڑالے جاتی یا انہیں جانورچرجاتےہیں۔ تاہم اب امریکی ماہرین نے بیجوں کو ایسے اسکرو نما ساختوں میں رکھا ہے جو ڈرل مشین کی طرح گھومتے ہوئے مٹی میں جذب ہوجاتے ہیں اور یوں کونپلیں پھوٹنے لگتے ہیں۔

کارنیگی میلون یونیورسٹی کی پروفیسر لیننگ یوآؤ نے یہ سبق ایروڈیئم پودے سے لیا ہے جو خشک ماحول اور سخت زمین میں بھی بیج بودیتا ہے۔ اس کے باریک تنکے میں بیج بھرے ہوتے ہیں ۔ پانی یا نمی کی صورت میں یہ کیل کی طرح سیدھاہوجاتا ہے اور گھوم کر زمین میں گھسنے لگتا ہے اور یوں نیچے موجود بیج مٹی میں چلے جاتے ہیں۔

عین اسی طریقے پر ڈاکٹر لیننگ نے شاہِ بلوط کے درخت سے ’ای سیڈ‘ بنایا ہے کیونکہ یہ نمی سے بہت حساس ہوتا ہے . اس کے ڈنٹھل کی تین دُمیں(کنارے) ہوتے ہیں اور زمین ہموار مل جائے تو وہ سیدھا کھڑا ہوسکتا ہے۔

سائنسدانوں نے اسے پانچ مراحل سے گزارا ہے اور جس میں کیمیکل سے دھونے، مشینی انداز میں مولڈنگ اور بیجوں کو بھرنے جیسے اہم مراحل شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بیج کی پوشاک بنانے میں طبیعیات، میکانیات، مٹیریئل سائنس اور حرکیات کو بغور نوٹ کیا گیا تھا۔

ماہرین نے اس کی ویڈیو بنائی ہے اور اسے ڈرون سے ایک جگہ گرایا۔ اس کے بعد جیسے ہی بارش آئی تو آئی سیڈ سیدھا ہوگیا اور کسی ڈرل مشین کی نوک کی طرح گھوم کر زمین میں اپنی جگہ بنائی۔ اس طرح کناروں پر رکھے بیج کھل گئے اور ان سے کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ ماہرین نے ثابت کردکھایا ہے کہ فطرت کی مدد سے ہی بیجوں کو ایک قدرتی اسکرو میں بدل کر یہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں