قبض ختم کرنے والے تھرتھراتے کیپسول کی کامیاب آزمائش

قبض ختم کرنے والے تھرتھراتے کیپسول کی کامیاب آزمائش

جارجیا| دائمی قبض کئی امراض کی وجہ بنتا ہے اور اب ماہرین نے اس کے علاج کے لیے کسی دوا کے بغیر تھرتھراتا کیپسول بنایا ہے جو بالغان میں قبض سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت کو دوگنا کرکے ان کی تکلیف کو رفع کرسکتا ہے۔

جرنل آف گیسٹراینٹرولوجی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق میڈیکل کالج آف جارجیا اور آگسٹا یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے ماہرین نے ایک انچ لمبا ایسا کیپسول بنایا ہے جو آنتوں میں تھرتھراہٹ پیدا کرتا ہے۔ اس سے معدے کے اندرونی حرکت (باول موومنٹ) بڑھتی ہے اور یوں قبض کی کیفیت دور ہوجاتی ہے۔

ستیش راؤ اور ان کے ساتھیوں نے یہ کیپسول بنایا ہے جو امریکا بھر کے 90 مراکز میں 300 سے زائد بالغ افراد پر آزمایا ہے۔ اس کیپسول کو لیٹکس سے پاک عام پلاسٹک سے تیار کیا گیا ہے جسے گولی کی طرح نگلا جاسکتا ہے۔ یہ پیٹ میں جاکر دو گھنٹے تک تھرتھراتی رہتی ہے۔ مریضوں کو ہفتے میں پانچ روز تک روزانہ دو گھنٹے اسے مرحلے سے گزارا گیا۔

کیپسول پیٹ میں جاکر پہلے تین سیکنڈ تک ارتعاش پیدا کرتا ہے اور اس کے بعد 16 سیکنڈ خاموش رہتا ہے۔ جب روزانہ کے دو سیشن ختم ہوجاتے ہیں تو یہ کیپسول ازخود بدن سے خارج ہوجاتا ہے۔ مریض کو بیرونی طور پر بہت کم محسوس ہوتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ دوا نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جو معدے کے دیواروں کو بھی حرکت دیتا ہے اسے سے اجابت میں تیزی آتی ہے اور قبض دور ہوسکتا ہے۔

کیپسول استعمال نہ کرنے والے کے مقابلے میں جن افراد نے ارتعاشی کیپسول پیٹ میں اتارا ان کے معدے کےحرکت 39 فیصد تک بڑھی اور ان کے قبض کی کیفیت بھی کم ہوئی۔ توقع ہے کہ یہ کیپسول دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں افراد کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں