فضائی آلودگی اور نوجوانوں کے بلڈ پریشر کے درمیان منفی تعلق کا انکشاف

فضائی آلودگی اور نوجوانوں کے بلڈ پریشر کے درمیان منفی تعلق کا انکشاف

لندن| سائنس دانوں کو اس بات کا علم تو ہے کہ فضائی آلودگی ہماری صحت کے لیے کینسر جیسی سنجیدہ نوعیت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے لیکن ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اس کے نوجوانوں کے بلڈ پریشر پر بھی منفی اثرات ہوسکتےہیں۔

کنگز کالج لندن کی رہنمائی میں کی جانے والی اس تحقیق میں محققین نے لندن میں رہنے والے 3 ہزار 284 نوجوانوں کے بلڈ پریشر اور ان کے اطراف موجود ہوا میں شامل نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر (ٹریفک کے دھوئیں میں موجود ذرات) کی مقدار کے درمیان تعلق جاننے کی کوشش کی۔ اس ڈیٹا کو ’ڈٹرمِنینٹس آف ایڈولسینٹ سوشل ویل بینگ اینڈ ہیلتھ(ڈی اے ایس ایچ)‘ تحقیق کے حصے کے طور پر جمع کیا گیا۔

اس تحقیق کا مقصدوقت کے ساتھ لندن کے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے اسکول جانے والے بچوں کی فلاح کا مشاہدہ کرنا ہے۔ تحقیق میں شریک افراد لندن کے 51 مختلف سیکنڈری اسکولوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی اکثریت نسلی اعتبار سے اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھتی تھی۔ طلبا کا انتخاب 2004-2003 اور 2006-2005 کےعرصے میں کیا گیا اور تب ان کے بلڈ پریشر، قد اور وزن کی پیمائش کی گئی۔

تحقیق میں شریک ہر فرد نے ایک سوالنامہ پُر کیا جس میں قومیت، رہائشی علاقے اور سماجی و معاشی رتبے کے حوالے سے تفصیل سے پوچھا گیا۔مطلوبہ عرصے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر کی مقدار کو لندن میں آلودگی کی سطح کے سالانہ ماڈلز سے حاصل کیا گیا۔ تجزیے میں دیکھا گیا کہ نوجوان پر نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ افشا ہونے کا تعلق کم بلڈ پریشر سے تھا۔ تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ پارٹیکیولیٹ میٹر کے زیادہ افشا ہونے کا تعلق بلند فشار خون سے تھا۔ تحقیق میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں میں ان دو عوامل کے درمیان زیادہ مضبوط تعلق بھی دیکھا گیا۔

یہ تحقیق جرنل PLOS One میں شائع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں