سپریم کورٹ کا فیصلہ، عمران خان کا 4 مارچ سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان

سپریم کورٹ کا فیصلہ، عمران خان کا 4 مارچ سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان

لاہور| چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 90 روز میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کروانے کے عدالتی حکم کے بعد 4 مارچ سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

ویڈیو خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح تھا الیکشن 90 دن سے زیادہ آگے نہیں جا سکتے، قوم سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 5 ججز نے کہا الیکشن 90 دن سے آگے نہیں جا سکتے، انہوں نے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، یہ کبھی آزاد عدلیہ نہیں چاہتے، ججز کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر وزیر قانون کا بیان شرمناک ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود فضا بنی ہے شاید الیکشن 90 دن کے اندر نہ ہوں، فیصلے کے باوجود تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ معلوم نہیں کہ الیکشن 90 دن کے اندر ہوں گے یا نہیں؟

انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے فیصلہ کردے تو کوئی گنجائش باقی نہیں، ہم پوری کوشش کریں گے یہ انتخابات سے نہ بھاگیں، انہوں نے پاکستان کی جمہوریت اور اداروں کو بہت نقصان پہنچایا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ، عمران خان کا جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) کے چئیرمین عمران خان نے جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹوئٹر پربیان میں پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے کہا کہ کے پی اور پنجاب میں الیکشن سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ آئین کو بحال رکھنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری تھی جسے انہوں نے آج کے فیصلے سے بخوبی پورا کیا ہے۔ یہ پاکستان میں قانون کا نفاذ ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جیل بھرو تحریک کو معطل کرتے ہوئے ہم اب خیبرپختونخوا اور پنجاب میں انتخابی مہم چلائیں گے۔

الیکشن کے التواء کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے، عمران خان

علاوہ ازیں چیئرمین تحریک انصاف کی زیرِصدارت اہم ترین اجلاس ہوا جس میں مرکزی قائدین اور پارٹی ترجمان شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیراعظم کی سرکردگی میں عدلیہ اور ججز پر حملوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا اور وزیراعظم کی سرپرستی میں عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ کے ججز پر حملوں کی شدید مذمت کی۔

تحریک انصاف نے وفاقی حکومت خصوصاً وزیرِ قانون اور اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالتی حکمنامے کی گمراہ کن تشریحات پر شدید ناگواری کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن سے آئین کی روح اور سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 90 روز میں انتخابات کروانے کیلئے پنجاب و پختونخوا میں انتخابات کے فوری شیڈیول کے اعلان کا مطالبہ کیا۔

عمران خان نے کہا کہ جمہوریت اور آئین سے صریح انحراف کی راہ پر گامزن گروہ عدلیہ پر حملہ آور ہے، پی ڈی ایم نے وزیراعظم کی نگرانی میں معزز ججز کیخلاف شرمناک مہم کے ذریعے عدالت کو دباؤ میں لانے کی قابلِ مذمت کوشش کی، اس گروہ کا اعمال نامہ ججوں کی خریداری اور عدالتوں پر مسلح یلغار کی سیاہ تاریخ رکھتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دباؤ اور سازشوں کا نہایت جرات سے مقابلہ کرنے اور آئین کو برقرار رکھنے پر معزز ججز خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، آئین سے انحراف کی کسی کوشش کو پہلے قبول کیا نہ آئندہ کریں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک میں قانون کی حکمرانی پر چھائے لاقانونیت کے سیاہ بادل چھٹنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں،

عمران خان نے کہا کہ کل نہایت پرامن طریقے سے میرے استقبال کیلئے نکلنے والے شہریوں اور کارکنان پر دہشتگردی کے مقدمات قائم کرکے شرمناک فسطائیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، ان حربوں سے قوم پہلے خوفزدہ ہوئی نہ ہی آئندہ مرعوب ہوگی، ایک جانب بنیادی حقوق کی خلاف ورزی دوسری جانب یہ نااہل، نالائق اور کرپٹ گروہ نہایت بےرحمی سے عوام کو بدترین مہنگائی تلے کچل رہا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ قومی سطح پر صاف شفاف انتخابات کا بلاتاخیر انعقاد ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی واحد تدبیر ہے، انتخاب کو التواء میں ڈالنے یا عوام کا سامنا کرنے سے گریز کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں