سپریم کورٹ انتخابات از خود نوٹس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

سپریم کورٹ انتخابات از خود نوٹس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

اسلام آباد| پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات میں ممکنہ التوا پر ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے محفوظ کرلیا جو کل صبح گیارہ بجے سنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پنجاب اور خیبر پختوانخوا میں انتخابات میں تاخیر پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟ الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی۔ اگر قانون میں تاریخ دینے کا معاملہ واضح کردیا جاتا تو آج یہاں نہ کھڑے ہوتے۔

90 روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ 90 روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے۔۔صدر کے صوابدیدی اورایڈوائس پراستعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی 90 روز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نگران وزیراعلیٰ الیکشن کی تاریخ دینے کی ایڈوائس گورنر کو دے سکتا ہے؟ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کرسکتا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدرعابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران سیٹ اپ کا اعلان ایک ساتھ ہوتا ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے نگران وزیر اعلی کا نہیں۔ عابد زبیری نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں۔ عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران سیٹ اپ کا اعلان ایک ساتھ ہوتا ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے نگران وزیر اعلی کا نہیں۔ اتنے دنوں سے اعلان نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟ 90 روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائےگا۔

صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں

عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت نے مشاورت کےلئے خط لکھے ہیں جس پرجسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں۔ آئین میں توکہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔ جسٹس جمال نے ریمارکس میں کہا کہ صدر کے اختیارات براہ راست آئین نے نہیں بتائے۔ آئین میں اختیارات نہیں توپھر قانون کے تحت اقدام ہوگا۔ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کہ گورنر تاریخ نہیں دے رہا صدر بھی ایڈوائس کا پابند ہے تو الیکشن کیسے ہوگا؟ کیا وزیر اعظم ایڈوائس نہ دے تو صدر الیکشن ایکٹ کے تحت اختیار استعمال نہیں کرسکتا۔ پارلیمان نے الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار تفویض کیا ہے۔ عابد زبیری نے کہا کہ تفویض کردہ اختیارات استعمال کرنے کےلیے ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔ الیکشن ہر صورت میں 90 روز میں ہونا ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں۔دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔ الیکشنز کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے۔

جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا انتخابی مہم کا دورانیہ کم نہیں کیا جاسکتا جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کےلیے وقت درکار ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے۔جسٹس منیب نے کہا کہ آئین پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا اگر انتخابات 90 دن میں ہی ہونا لازمی ہیں تو 1988 کا الیکشن مشکوک ہوگا؟ سال 2018 کا الیکشن بھی مقررہ مدت کے بعد ہوا تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟ الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی۔ اگر قانون میں تاریخ دینے کا معاملہ واضح کردیا جاتا تو آج یہاں نہ کھڑے ہوتے۔

انتخابات پر متحرک ہونا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتخابات پر متحرک ہونا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن کا کام تھا مکمل تیاری کے ساتھ دوبارہ گورنرز سے رجوع کرتا۔گورنر خیبرپختونخواہ کے مطابق دیگر اداروں سے رجوع کرکے تاریخ کا تعین کیا جائے۔کیا گورنر کے پی سے تاریخ کےلئے بات ہوئی ہے؟

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے گورنر سے ملاقات کی۔ گورنر کے پی کو یاد دہانی کا خط بھی لکھا تھا۔ گورنر کے پی نے مشاورت کے لیے تاریخ نہیں دی اوردیگر اداروں سے رجوع کرنے کو کہا۔

وکیل گورنر کے پی نے کہا کہ گورنر نے اسمبلی وزیراعلی کی ایڈوائس پر تحلیل کی۔ گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو تاریخ دینے کا مجاز ہے۔الیکشن کمیشن نے تین فروری کو گورنر کو صوبائی حکومت سے رجوع کا کہا۔ خط میں الیکشن کمیشن نے اپنی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔

انتخابات کروانا لازم ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ نظام کو آئین کے تحت مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انتخابات کروانا لازم ہے۔ اولین ترجیح آئین کے تحت چلنا ہے۔ الیکشن کی تاریخ کے بعد رکاوٹیں دور کی جاسکتی ہیں۔ اگر کوئی بڑا مسئلہ ہو تو آپ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے، آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا، حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، آج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردےگا۔

حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے تاریخ دینے کا مشورہ

عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

فاروق ایچ ناٸیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں ،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

الیکشن کی تاریخ دینا سیاسی جماعتوں کا کام نہیں

وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپنی قیادت سے بات ہوئی ہے، پیپلز پارٹی قیادت کا موقف ہے الیکشن کی تاریخ دینا سیاسی جماعتوں کا کام نہیں۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر نے الیکشن کی تاریخ وزیر اعظم کی ایڈوائس کے بغیر دی، بغیر ایڈوائس الیکشن کی تاریخ دینا خلاف آئین ہے، صدر نے الیکشن کمیشن سے بھی مشاورت نہیں کی۔ وکیل ن لیگ نے کہا کہ اتحادیوں کے درمیان مشاورت ہوئی ہے، مشاورت کیلئے مزید وقت درکار ہے، مناسب ہوگا عدالت کیس آگے بڑھائے۔

عدالت صرف یہ بتا سکتی ہے کہ تاریخ کس نے دینی ہے

جسٹس منصور علی نے کہا کہ آپس میں تاریخ طے کرنی یا نہیں فیصلہ کر کے عدالت کو بتائیں، عدالت صرف یہ بتا سکتی ہے کہ تاریخ کس نے دینی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی مدت پوری کرے تو صدر کو ایڈوائس کون کریگا، اسمبلی مدت پوری کرے تو دو ماہ میں انتخابات لازمی ہیں، ایڈوائس تو صدر 14 دن بعد واپس بھی بجھوا سکتے ہیں ، سمری واپس بجھوانے کی صورت میں 25 دن تو ضائع ہوگئے، وزیر اعظم کو اعتماد کے ووٹ کا کہنا صدر کی صوابدید ہے، صدر کا اعتماد کے ووٹ کا کہنے کیلئے کسی سمری کی ضرورت نہیں۔

موجودہ حالات میں 90 روز میں الیکشن ضروری ہیں

چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ حالات میں 90 روز میں الیکشن ضروری ہیں، پشاور ہائی کورٹ نے 2 ہفتے نوٹس دینے میں لگائے، لاہور ہائی کورٹ میں بھی معاملہ التواء میں ہے، سپریم کورٹ میں آج مسلسل دوسرا دن ہے اور کیس تقریباً مکمل ہو چکا ہے، عدالت کسی فریق کی نہیں بلکہ آئین کی حمایت کر رہی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینا صدر کی صوابدید ہے، اسمبلی مدت پوری ہو تو صدر کو فوری متحرک ہونا ہوتا ہے۔

عدالت تلاش میں ہے کہ الیکشن کی تاریخ کہاں سے آنی ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ سب متفق ہیں کہ آرٹیکل 224 کے تحت 90 روز میں الیکشن لازم ہیں، عدالت تلاش میں ہے کہ الیکشن کی تاریخ کہاں سے آنی ہے۔ وکیل مسلم لیگ ن منصور اعوان نے دلائل دیے کہ قومی اسمبلی کا الیکشن ہو گا تو پنجاب اور کے پی کے میں منتحب حکومتیں ہوں گی، منتحب حکومتوں کے ہوتے ہوئے یکساں میدان ملنا مشکل ہے، قومی اسمبلی کے انتحابات پر سوالیہ نشان اٹھے گا، عدالت مردم شماری کو بھی مدنظر رکھے، 30 اپریل تک مردم شماری مکمل ہو جائے گی، مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوتی ہیں۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین واضح ہے انتحاب نوے دن میں ہوں گے۔

صدر کو کے پی الیکشن کیلٸے تاریخ دینے کا اختیار نہیں تھا

صدر پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کیلئے صدر اور گورنر کو ایڈوائس کی ضرورت نہیں، صدر کو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کی تاریخ دینے کا بھی اختیار ہے، صدر کو قانونی مشورہ دیا گیا اپنا آئینی اختیار استعمال کریں، گورنر کے پی کے تاریخ دینے کا اختیار استعمال نہیں کر رہے تھے، صدر تسلیم کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں الیکشن کیلٸے انہیں تاریخ نہیں دینی چاہیے تھی، صدر کو کے پی الیکشن کیلٸے تاریخ دینے کا اختیار نہیں تھا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صدر مملکت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرینگے، پنجاب میں صدر کو اختیار تھا کے پی میں نہیں، صدر نے الیکشن کمیشن کو مشاورت کے لیے بلوایا تھا، الیکشن کمیشن نے مشاورت سے انکار کردیا، صدر مملکت نے آئین و قانون کے مطابق تاریخ دی، نوے روز میں ہر صورت انتخاب ہونے چاہئیں، صدر کو آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی دھمکیاں مل رہی ہیں، کابینہ نے صدر کو کہا ہے۔ آپ کے خلاف کاروائی ہوسکتی ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا جسے آج شام کو سنانا تھا تاہم بعد میں عدالتی عملے نے بتایا کہ محفوظ فیصلہ بدھ یکم مارچ کی صبح گیارہ بجے سنایا جائے گا۔

فواد چوہدری کی سپریم کورٹ کے باہر گفتگو

بعد ازں فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین وکلا نےمؤقف رکھا ہے، انتخابات90دن کےاندرہونےچاہئیں، انتخابات کی تاریخ کااعلان کس نےکرناہے،اس پرزیادہ بحث ہوئی، جج صاحب نے تجویز دی ہے معاملہ اتفاق رائےسےحل ہوناچاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دو بنیادی نکات وہ تھےجن پرآج بحث جاری رہی، ہم بھی چاہتے ہیں سیاسی معاملات افہام وتفہیم سےحل ہونےچاہئیں،عدالت سے یہی استدعا کی،فیصلہ آئین کےتحت سنایاجائے، زرداری صاحب جنرل ضیاالحق کواپنا پیرمان چکے ہیں، ہم چاہتے ہیں سیاسی جماعتیں پولیٹیکل فریم ورک کی جانب بڑھیں،حکومت کی سوچ ہے پہلےعمران خان گرفتار اور پھر نااہل ہوں گے جبکہ تحریک انصاف کےکارکنوں کوگرفتارکیاجائےگا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کی سوچ ہےنوازشریف اہل ہوں گے،ان کی سزائیں ختم ہوں گی،حکومت کی اس سوچ پرکیسےاتفاق رائے ہوسکتاہے، الیکشن آئین کےمطابق ہوں گے، انتخابات اتفاق رائے سے ہونےلگیں تو پھرکوئی بھی الیکشن نہیں چلےگا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی بیٹی کہتی ہے پہلےانصاف پھرانتخابات ہوں گے، مسلم لیگ(ن)نےخود کو ایک آمر کا جانشین ثابت کیا ہے، مسلم لیگ(ن) اور پی پی نےباریاں لگائی ہوئی ہیں،اب ایسانہیں ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنما نے امید ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،تمام ججزکاشکریہ اداکرتاہوں،ججزآئین کی حفاظت نہ کرسکیں تو ان کی کرسیوں کی کوئی اہمیت نہیں،سپریم کورٹ کوتقسیم کرنےکی کوشش بھی ہمیں نظرآئی، ن لیگ ججز کو تقسیم کرکےاپنےمقاصد حاصل کرناچاہتی ہے،ججز پر ہے تقسیم کاحصہ بنتےہیں یاآئین کےتحفظ کےلیے کرداراداکرتےہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ درخواست ہےسپریم کورٹ کےججزاپنےمعاملات اندربیٹھ کرحل کریں اور سپریم کورٹ کوتقسیم کیلیےاستعمال نہیں ہونےدیں کیونکہ یہ تقسیم کون چاہتا ہے ججز بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں