جرمنی نے اپنے شہری کی سزائے موت پرایرانی سفارت کاروں کو ملک بدرکردیا

جرمنی نے اپنے شہری کی سزائے موت پرایرانی سفارت کاروں کو ملک بدرکردیا

برلن| جرمنی نے تہران عدالت کی جانب سے جرمن شہری کو سزائے موت سنانے پر احتجاجاً ایران کے دو سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا۔

67 سالہ جمشید شرمہد نامی شخص امریکی نژاد جرمن شہری ہے جسے ایرانی عدالت نے 2008 میں ہونے والے ایک مسجد میں بم دھماکے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔

2008 میں ہونے والے اس دھماکے میں 14 نمازی جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایران نے جمشید شرمہد پر تندر نامی جماعت کے سربراہ ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا جس کا مقصد ایران میں خمینی انقلاب سے پہلے رائج شاۂ ایران کے دور کی بحالی تھا۔

بقول ایران اس تنظیم کو امریکا کی حمایت اور معاونت حاصل ہے۔ نیویارک اور لاس اینجلس سے اس تنظیم کے ٹیلی وژن اور ریڈیو سے ایران کی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ جمشید شرمہد کی سزائے موت کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جرمنی کے وزیر خارجہ اینالینا بیربوک نے کہا کہ ایرانی سفارت خانے سے دو سفارت کاروں کو نان گریٹا قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر جرمنی چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ نے اس معاملے پر ایران کے چارج ڈی افیئرز کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا جب کہ ایرانی حکومت سے جمشید شرمہد کی سزائے موت کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ جرمن وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی حکومت قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر منصفانہ اپیل کو ممکن بنائے۔

خیال رہے کہ اگست 2020 میں ایران نے جمشید شرمہد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک “پیچیدہ آپریشن” کے ذریعے جمشید شرمہد کو گرفتار کرکے لایا گیا ہے۔ دوسری جانب جمشید شرمہد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دبئی میں ٹرانزٹ کے دوران ایرانی سیکیورٹی سروسز نے جمشید اغوا کیا اور ایران لے کر گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں