امریکا اور چین کا ایک دوسرے پر کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کا الزام

امریکا اور چین کا ایک دوسرے پر کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کا الزام

واشنگٹن / بیجنگ| امریکی ادارے ایف بی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ کورونا وائرس چین کی ووہان لیبارٹری میں تیار ہوا جس کے جواب میں چین نے مہلک وائرس کی جائے پیدائش امریکا کی فوجی ریسرچ لیب کو قرار دیدیا۔

امریکی ادارے ’’ایف بی آئی‘‘ کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں کسی تجربے کے دوران بنا اور وہی سے پوری دنیا میں پھیلا تھا۔

ڈائریکٹر ایف بی آئی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی امریکی محکمہ توانائی کی ایک تفتیشی رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحقیقات میں کورونا کے چینی لیب سے لیک ہونے کا امکان سامنے آیا ہے۔

محکمہ توانائی کی اس تحقیق میں دیگر قومی لیبارٹریوں بشمول جدید حیاتیاتی تحقیق کے نیٹ ورک نے بھی کام کیا تھا جس سے اس رپورٹ کے درست ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم اب بھی مختلف امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس قدرتی طور پر دنیا میں ابھرا۔

خیال رہے کہ ووہان چین کا وہ شہر ہے جہاں دنیا میں سب سے پہلے کورونا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی جس کی وجہ سے مغربی ممالک کورونا کے بننے اور اس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار چین کو ٹھہراتے ہیں۔ عالمی اداروں نے اس بات کی تحقیق بھی کی تھی کہ کورونا ووہان کی لیب میں بنا تھا تاہم اس کے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے تاہم اس کے باجود گاہے بہ گاہے یہ معاملہ زیربحث رہتا ہے۔

امریکی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے کورونا کے ووہان لیبارٹری میں پیدائش کے بیان نے یہ معاملہ پھر اُٹھادیا ہے جس پر چین نے امریکی دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے خلاف امریکا کی ایک گندی مہم ہے۔

چینی حکام نے اپنے شدید ردعمل میں مزید کہا کہ ان بے بنیاد دعووں سے چین کی نہیں بلکہ خود امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ چین کو بدنام کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کورونا میری لینڈ میں امریکی فوجی ریسرچ لیب میں بنا اور دنیا بھر میں پھیلا جس پر امریکا کو عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بین الااقوامی ماہرین کو ریسرچ کا دورہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا سائنس پر مکمل بھروسہ رکھے اور بین الااقوامی ماہرین کی اپنے لیب میں ہونے والی تحقیق سے پوری کو دنیا کو آگاہ بھی کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں