urdu poetry in urdu text

اردو میں گہری شاعری دو لائنیں

ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍْﮌﯼ ﻣﯿﺮﯼ
ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻋﺬﺍﺏ ﭼﮑﮭﮯ ہیں

ہم تیرے آستاں پہ یہ کہنے کو آئے ہیں.
وہ خاک ہو گئے جو تیرے آستاں کے تھے.

سانســـــــــیں تو بس نمـــــــــائش ہیں۔۔۔
میـــــــــری زندگی تو تم ہو۔۔۔

وہ عزرائیل نہیں تھا یا رب
جان کیوں لے لی اس نے

اُڑتے جاتے ہیں دھُول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو۔

– تم فقط سن کے چیخ اٹهے ہو
ہم نے یوں زندگی گزاری ہے۔۔۔

بھول گئے ہمیں کچھ لوگ اس طرح سے
یقین مانو یقین نہیں آتا

قیامت خیز ہیں آنکھیں تمہاری،
تم آخر خواب کس کے دیکھتے ہو ۔

میں ہوں اُس زندگی کا افسانہ
جو یہاں زخم کھانے آئی تھی

اچانک ہی مر جاؤں گا
اعلان تمہیں چونکا دے گا

خُوب سے خُوب تر ، ارے توبہ
جونٙ اور جُستجو کرے ، توبہ

‏‎تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

اُسے اتنا نہ سوچا کر، تیری عادت نہ بن جائے
پھر ایسی عادتیں محسن! بدلنا بھی نہیں ممکن

مـثال دیـنے مـیں شـاعـر سے ہـو گـئی ہے بهـول
کـہاں جـناب کا چـہرہ کـہاں گـلاب کـا پـھـول

اپنا تبصرہ بھیجیں